EN हिंदी
پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے | شیح شیری
pahle hua jo karte the hum wo nahin rahe

غزل

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے

شجاع خاور

;

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے
دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے

ایسی بھی رو رہے ہیں انہیں جو نہیں رہے
پہلے سے معجزے تو کہیں ہو نہیں رہے

یارو دکھاؤ پھر کوئی ایسا ہنر کہ بس
غیروں کی کوئی فکر ہی ہم کو نہیں رہے

اشعار سے عیاں ہیں تو اشعار مت پڑھو
ہم دل کے داغ تم کو دکھا تو نہیں رہے

تدبیر بھی ہے جان بھی ہے مصلحت بھی ہے
رہنا نہ تھا بس ایک ہمیں سو نہیں رہے

ہم غیر اور وہ سبھی اپنی جگہ پہ ہیں
بس یوں کہو میاں کہ غزل گو نہیں رہے