EN हिंदी
پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص | شیح شیری
pae-gunah hai teri panah ki taKHsis

غزل

پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص

مرزا آسمان جاہ انجم

;

پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص
کہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیص

جو آپ سمجھے ہیں مجرم ہمیں تو کچھ نہیں ڈر
کہ کی ہے آپ ہی نے دو گواہ کی تخصیص

فراق یار میں بے روئے بن نہیں پڑتی
اثر کے واسطے کر دی ہے آہ کی تخصیص

نہ دل چراتے ہمارا نہ تم خجل ہوتے
پئے حجاب ہے نیچی نگاہ کی تخصیص

دکھاوے اور کوئی اپنا یار زہرہ جبیں
جو آسماں نہیں اس رشک ماہ کی تخصیص

پہنچ ہی جاتے کبھی پھر پھرا کے در پہ ترے
یہ تو نے کاہے کو کی ایک راہ کی تخصیص

تمام خلق خدا تجھ کو چاہنے لگتی
لگا نہ دیتا اگر تو پناہ کی تخصیص

وہ مجھ سے کہتے ہیں تم چاہتے نہیں مجھ کو
مرے ڈبونے کو کرتے ہیں چاہ کی تخصیص

ہے تیری ذرہ نوازی کی یہ دلیل ادنیٰ
کہ آسماں کے ہے ہمراہ جاہ کی تخصیص