EN हिंदी
پاؤں میں خوشبو کے زنجیر بنائی جائے | شیح شیری
panw mein KHushbu ke zanjir banai jae

غزل

پاؤں میں خوشبو کے زنجیر بنائی جائے

جیوتی آزاد کھتری

;

پاؤں میں خوشبو کے زنجیر بنائی جائے
آج سوچا تیری تصویر بنائی جائے

اپنی مرضی سے چلے آئیں دوانے سارے
ہو کشش جس میں وہ زنجیر بنائی جائے

بن کہے بات سمجھ لے تو میری میں تیری
چل محبت میں وہ تاثیر بنائی جائے

قافلے پیاس کے گزریں گے اسی رستے سے
صحرا میں پانی کی تحریر بنائی جائے

خواب تو دیکھ لیے تو نے بہت سے جیوتیؔ
وقت آیا ہے کی تعبیر بنائی جائے