EN हिंदी
پاؤں جب ہو گئے پتھر تو صدا دی اس نے | شیح شیری
panw jab ho gae patthar to sada di usne

غزل

پاؤں جب ہو گئے پتھر تو صدا دی اس نے

طارق قمر

;

پاؤں جب ہو گئے پتھر تو صدا دی اس نے
فیصلہ کرنے میں خود دیر لگا دی اس نے

اب جو آنکھوں میں دھواں ہے تو شکایت کیسی
یار خود ہی تو چراغوں کو ہوا دی اس نے

یہ الگ بات کہ وہ میرا خریدار نہیں
آ کے بازار کی رونق تو بڑھا دی اس نے

کوئی شکوہ نہ شکایت نہ وضاحت کوئی
میز سے بس مری تصویر ہٹا دی اس نے

رات زنجیر کی آواز جو کچھ تیز ہوئی
صبح دیوار پہ دیوار اٹھا دی اس نے

صرف اک راہ الگ تھی وہ مرے عشق کی راہ
اور وہ راہ بھی دنیا سے ملا دی اس نے

میرے ہمراہ ذرا دیر کو چل کر طارقؔ
اور کچھ وقت کی رفتار بڑھا دی اس نے