EN हिंदी
پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے | شیح شیری
pani mein kankar barsaya karte the

غزل

پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے

سوربھ شیکھر

;

پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے
وہ دن جب ہم لمحے ضائع کرتے تھے

ہوڑ ہوا سے اکثر لگتی تھی اپنی
اکثر اس کو دھول چٹایا کرتے تھے

دیکھ کے ہم کو راہ گزر مسکاتی تھی
پیڑ بھی آگے بڑھ کر چھایا کرتے تھے

دھوپ بٹورا کرتے تھے ہم سارا دن
شام کو بانٹ کے گھر لے جایا کرتے تھے

آج گھٹا افسردہ کرتی ہے ہم کو
ہم بارش میں خوب نہایا کرتے تھے

ایک یہی ہم دیکھیں سب خاموشی سے
ایک یہی ہم شور مچایا کرتے تھے

سوربھؔ شب تھی ایک ورق سادہ جس پر
لکھ لکھ کر ہم خواب مٹایا کرتے تھے