EN हिंदी
پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی | شیح شیری
pani mein aag dhyan se tere bhaDak gai

غزل

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی

آرزو لکھنوی

;

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
آنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی

کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے
پلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی

کھلتا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا
لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

آنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو برا
ایسی تکان دی کی پیالی چھلک گئی

میری سنک بھی بڑھتی ہے ان کی ہنسی کے ساتھ
چٹکی کلی کہ پاؤں کی بیڑی کھڑک گئی