پابند احتیاط وفا بھی نہ ہو سکے
ہم قید ضبط غم سے رہا بھی نہ ہو سکے
دار و مدار عشق وفا پر ہے ہم نشیں
وہ کیا کرے کہ جس سے وفا بھی نہ ہو سکے
گو عمر بھر نہ مل سکے آپس میں ایک بار
ہم ایک دوسرے سے جدا بھی نہ ہو سکے
جب جزو کی صفات میں کل کی صفات ہیں
پھر وہ بشر ہی کیا جو خدا بھی نہ ہو سکے
یہ فیض عشق تھا کہ ہوئی ہر خطا معاف
وہ خوش نہ ہو سکے تو خفا بھی نہ ہو سکے
وہ آستان دوست پہ کیا سر جھکائے گا
جس سے بلند دست دعا بھی نہ ہو سکے
یہ احترام تھا نگہ شوق کا جو تم
بے پردہ ہو سکے جلوہ نما بھی نہ ہو سکے
مخمورؔ کچھ نہ پوچھیے مجبورئ حیات
اچھی طرح خراب فنا بھی نہ ہو سکے

غزل
پابند احتیاط وفا بھی نہ ہو سکے
مخمور جالندھری