نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں
روشنی کے پیڑوں پر رات کے بسیرے ہیں
شہر شہر سناٹے یوں صدا کو گھیرے ہیں
جس طرح جزیروں کے پانیوں میں ڈیرے ہیں
نیند کب میسر ہے جاگنا مقدر ہے
زلف زلف اندھیارے خم بہ خم سویرے ہیں
دل اگر کلیسا ہے غم شبیہ عیسیٰ ہے
پھول راہبہ بن کر روح نے بکھیرے ہیں
عشق کیا وفا کیا ہے وقت کیا خدا کیا ہے
ان لطیف خیموں کے سائے کیوں گھنیرے ہیں
ذوق آگہی بھی دیکھ طوق بے کسی بھی دیکھ
پاؤں میں ہیں زنجیریں ہاتھ میں پھریرے ہیں
ہو بہ ہو وہی آواز ہو بہ ہو وہی انداز
تجھ کو میں چھپاؤں کیا مجھ میں رنگ تیرے ہیں
توڑ کر حد امکاں جائے گا کہاں عرفاں
راہ میں ستاروں نے جال کیوں بکھیرے ہیں
فہم لاکھ سلجھائے وہم لاکھ الجھائے
حسن ہے حقائق کا کیا خیال میرے ہیں
ہم تو ٹھہرے دیوانے بستیوں میں ویرانے
اہل عقل کیوں خالدؔ پاگلوں کو گھیرے ہیں
غزل
نور نور ذہنوں میں خوف کے اندھیرے ہیں
خالد احمد

