EN हिंदी
نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے | شیح شیری
nuh ka tufan ek aansu se barpa kijiye

غزل

نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

;

نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئے
جی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئے

بے خبر بن جائیے یا عہد پورا کیجئے
جس طرح سے آپ کا جی چاہے اچھا کیجئے

عیسی دوراں سہی لیکن کوئی شاہد بھی ہو
ہم ابھی تو جی اٹھیں گے آپ اشارا کیجئے

ہو چکا ہونا تھا جو کچھ جائیے بس جائیے
مرنے والے کو نہ اب للہ رسوا کیجئے

پھر ذرا جھلکی دکھا کر اک ذرا چھپ جائیے
دل کے ہر ذرے میں آباد ایک دنیا کیجئے

دل ہمارا ہے ہم اس کے ہیں ازل سے راز دار
آپ خود آ کر سر بازار رسوا کیجئے

کون کہتا ہے کہ ان قصوں کو پھر دہرائیے
دل کی آبادی مٹا کر ذکر صحرا کیجئے

رازداری عشق میں عالمؔ نہیں چھوٹی سی بات
دل ہی دل میں سوچتا رہتا ہوں اب کیا کیجئے