EN हिंदी
نقطۂ بے نور نے منہاج امکاں کر دیا | شیح شیری
nuqta-e-be-nur ne minhaj-e-imkan kar diya

غزل

نقطۂ بے نور نے منہاج امکاں کر دیا

عامر نظر

;

نقطۂ بے نور نے منہاج امکاں کر دیا
تیلیوں کے رقص نے اتنا تو احساں کر دیا

دیکھنا باقی تھا گویا آئنوں کا انتشار
زندگی کو سنگ زادوں نے پریشاں کر دیا

اے شرر تیری نگاہ کیف کا تھا معجزہ
تیرہ تن دشت و جبل کو روئے تاباں کر دیا

جب مرے اطراف نادیدہ فصیلیں کھینچ دیں
میرے احساسات کو شمع فروزاں کر دیا

عہد رفتہ کی تراشیدہ نگاہیں کیا ملیں
ساعت بے خواب کو بھی میں نے حیراں کر دیا

سنگ ریزوں کی انا سے کب مجھے تھا انحراف
اس لئے لمحوں کو عامرؔ شیشۂ جاں کر دیا