نقطۂ بے نور نے منہاج امکاں کر دیا
تیلیوں کے رقص نے اتنا تو احساں کر دیا
دیکھنا باقی تھا گویا آئنوں کا انتشار
زندگی کو سنگ زادوں نے پریشاں کر دیا
اے شرر تیری نگاہ کیف کا تھا معجزہ
تیرہ تن دشت و جبل کو روئے تاباں کر دیا
جب مرے اطراف نادیدہ فصیلیں کھینچ دیں
میرے احساسات کو شمع فروزاں کر دیا
عہد رفتہ کی تراشیدہ نگاہیں کیا ملیں
ساعت بے خواب کو بھی میں نے حیراں کر دیا
سنگ ریزوں کی انا سے کب مجھے تھا انحراف
اس لئے لمحوں کو عامرؔ شیشۂ جاں کر دیا
غزل
نقطۂ بے نور نے منہاج امکاں کر دیا
عامر نظر

