نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت
اس کاروبار دل نے خسارا کیا بہت
چاروں طرف تھے پھول شفق کے کھلے ہوئے
جس شام آسماں کا نظارا کیا بہت
اب کیا کروں کہ شور میں آواز دب گئی
میں اس کو شہر جاں میں پکارا کیا بہت
شبنم سے پیاس تو نے یقیناً بجھائی ہے
میں نے بھی آنسوؤں پہ گزارا کیا بہت
غزل
نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت
عبید صدیقی

