EN हिंदी
نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت | شیح شیری
nuqsan kya bataen hamara kiya bahut

غزل

نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت

عبید صدیقی

;

نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت
اس کاروبار دل نے خسارا کیا بہت

چاروں طرف تھے پھول شفق کے کھلے ہوئے
جس شام آسماں کا نظارا کیا بہت

اب کیا کروں کہ شور میں آواز دب گئی
میں اس کو شہر جاں میں پکارا کیا بہت

شبنم سے پیاس تو نے یقیناً بجھائی ہے
میں نے بھی آنسوؤں پہ گزارا کیا بہت