EN हिंदी
نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی | شیح شیری
niyyat agar KHarab hui hai huzur ki

غزل

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

ہیرا لال فلک دہلوی

;

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی
گڑھ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کی
کوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی

ہر ظلم پر کیا ہے زمانے سے احتجاج
کچھ بھی نہ بن پڑا تو مذمت ضرور کی

تعمیر کا تو وقت ہے تخریب کا جنوں
اب بھی ہے آدمی کو ضرورت شعور کی

اے شام غم کی گہری خموشی تجھے سلام
کانوں میں ایک آئی ہے آواز دور کی

ہوش اڑ گئے تو ہوش حقیقت کا آ گیا
موسیٰ کی بے حسی میں تجلی تھی نور کی

کہتا ہے انقلاب زمانہ جسے فلکؔ
اک دنیا منتظر ہے اسی کے ظہور کی