EN हिंदी
نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم | شیح شیری
nikle wo phul ban ke tere gulsitan se hum

غزل

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم

فنا بلند شہری

;

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم
مہکا دیا فضاؤں کو گزرے جہاں سے ہم

اب تو یہی حریم محبت ہے اے صنم
جائیں کہاں اب اٹھ کے ترے آستاں سے ہم

دنیا میں اب کہیں بھی ٹھہرتی نہیں نظر
تجھ سا حسین لائیں تو لائیں کہاں سے ہم

دل لے کے جس نے درد محبت عطا کیا
مانگیں گے اب دوا بھی اسی مہرباں سے ہم

دامن میں کچھ تو ڈال دے اپنے کرم کی بھیک
دامن تہی نہ جائیں گے اس آستاں سے ہم

تیرا کرم رہا جو رہ عشق میں صنم
اک روز آ ملیں گے ترے کارواں سے ہم

لکھی ہوئی تھی قید عناصر نصیب میں
لے کر چلے ہیں اپنا قفس آشیاں سے ہم

راہ جنوں میں کھلنے لگے عاشقی کہ پھول
ان کے کرم کے سائے میں گزرے جہاں سے ہم

ٹھکرائیں یا نواز لیں وہ ہم کو اے فناؔ
شکوہ کبھی کریں گے نہ اپنی زباں سے ہم