EN हिंदी
نکل کر سایۂ ابر رواں سے | شیح شیری
nikal kar saya-e-abr-e-rawan se

غزل

نکل کر سایۂ ابر رواں سے

رسا چغتائی

;

نکل کر سایۂ ابر رواں سے
رہے ہم مدتوں بے سائباں سے

زمیں پر چاند آنا چاہتا ہے
اتر کر کشتی آب رواں سے

نگاہیں ڈھونڈتی ہیں رفتگاں کو
ستارے ٹوٹتے ہیں آسماں سے

مناتے خیر کیا ہم جسم و جاں کی
اسے چاہا تھا ہم نے جسم و جاں سے

رساؔ کس عہد نا پرساں میں ہم نے
لیا ہے کام حرف رایگاں سے