EN हिंदी
نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے | شیح شیری
nist be-yar mujhko hasti hai

غزل

نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے

رند لکھنوی

;

نیست بے یار مجھ کو ہستی ہے
شہر ویراں اجاڑ بستی ہے

ہے جہاں پر مرا قدم بھاری
ہر قدم پر زمین دھنستی ہے

وہ پری ساتھ لے کے سوتا ہوں
حور جس کا پلنگ کستی ہے

ہے حقیقت مجاز سے مطلوب
بت پرستی خدا پرستی ہے

اس کے کشتے ہیں زندۂ جاوید
نیستی ان کی عین ہستی ہے

ایک بت نے دیا نہ ہم کو جواب
بے زبانوں کی ہند بستی ہے

خاکساروں کی ہے یہی معراج
سربلندی ہماری پستی ہے

ہے کئی دن سے گھات میں صیاد
عندلیب آج کل میں پھنستی ہے

اس مرقع کی دیکھ تصویریں
کوئی روتی ہے کوئی ہنستی ہے

منزل عشق کی ہے رہ ہموار
نہ بلندی ہے یاں نہ پستی ہے

حسن دکھلا رہا ہے قدرت حق
بت کو بھی ذوق خود پرستی ہے

جاں بھی دے کر ملے تو مفت سمجھ
ہر طرح جنس حسن سستی ہے

زلف اس کی سیاہ ناگن ہے
مار رکھتی ہے جس کو ڈستی ہے

کھلیں گی آنکھیں نشہ اترے گا
حسن تک اوپری یہ مستی ہے

ایسے جینے پہ رندؔ خاک پڑے
موت اس زندگی پہ ہنستی ہے