EN हिंदी
نیند ٹوٹی تو سمندر نہ جزیرہ دیکھا | شیح شیری
nind TuTi to samundar na jazira dekha

غزل

نیند ٹوٹی تو سمندر نہ جزیرہ دیکھا

سلطان اختر

;

نیند ٹوٹی تو سمندر نہ جزیرہ دیکھا
رات بھی میں نے وہی خواب شکستہ دیکھا

سب پریشان ہیں لمحوں کی گرانباری سے
میں نے ہر شخص کے ماتھے پہ پسینہ دیکھا

اس نے سہمی ہوئی آنکھوں پہ ہتھیلی رکھ لی
جب خس جسم سے اٹھتا ہوا شعلہ دیکھا

گوشے گوشے میں کسی خوف کی پرچھائیں تھی
گھر کی ہر چیز پہ آسیب کا سایہ دیکھا

سب کی پیشانی پہ حالات کی تاریکی تھی
سب کے ہونٹوں پہ کڑے وقت کا نوحہ دیکھا

کوئی تہذیب بھی شائستۂ ملبوس نہیں
جس کو بھی دیکھا سر راہ برہنہ دیکھا

ہنس کے ملنے سے تصنع کی چمک چھپ نہ سکی
ہائے وہ چہرہ جو میں نے پس چہرہ دیکھا