نیند ٹوٹی تو سمندر نہ جزیرہ دیکھا
رات بھی میں نے وہی خواب شکستہ دیکھا
سب پریشان ہیں لمحوں کی گرانباری سے
میں نے ہر شخص کے ماتھے پہ پسینہ دیکھا
اس نے سہمی ہوئی آنکھوں پہ ہتھیلی رکھ لی
جب خس جسم سے اٹھتا ہوا شعلہ دیکھا
گوشے گوشے میں کسی خوف کی پرچھائیں تھی
گھر کی ہر چیز پہ آسیب کا سایہ دیکھا
سب کی پیشانی پہ حالات کی تاریکی تھی
سب کے ہونٹوں پہ کڑے وقت کا نوحہ دیکھا
کوئی تہذیب بھی شائستۂ ملبوس نہیں
جس کو بھی دیکھا سر راہ برہنہ دیکھا
ہنس کے ملنے سے تصنع کی چمک چھپ نہ سکی
ہائے وہ چہرہ جو میں نے پس چہرہ دیکھا
غزل
نیند ٹوٹی تو سمندر نہ جزیرہ دیکھا
سلطان اختر

