نیند سے آ کر بیٹھا ہے
خواب مرے گھر بیٹھا ہے
عکس مرا آئینے میں
لے کر پتھر بیٹھا ہے
پلکیں جھکی ہیں صحرا کی
جس پہ سمندر بیٹھا ہے
ایک بگولا یادوں کا
کھا کر چکر بیٹھا ہے
اس کی نیندوں پر اک خواب
تتلی بن کر بیٹھا ہے
رات کی ٹیبل بک کر کے
چاند ڈنر پر بیٹھا ہے
اندھیارا خاموشی کی
اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے
آتشؔ دھوپ گئی کب کی
گھر میں کیوں کر بیٹھا ہے
غزل
نیند سے آ کر بیٹھا ہے
سوپنل تیواری

