EN हिंदी
نیند سے آ کر بیٹھا ہے | شیح شیری
nind se aa kar baiTha hai

غزل

نیند سے آ کر بیٹھا ہے

سوپنل تیواری

;

نیند سے آ کر بیٹھا ہے
خواب مرے گھر بیٹھا ہے

عکس مرا آئینے میں
لے کر پتھر بیٹھا ہے

پلکیں جھکی ہیں صحرا کی
جس پہ سمندر بیٹھا ہے

ایک بگولا یادوں کا
کھا کر چکر بیٹھا ہے

اس کی نیندوں پر اک خواب
تتلی بن کر بیٹھا ہے

رات کی ٹیبل بک کر کے
چاند ڈنر پر بیٹھا ہے

اندھیارا خاموشی کی
اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے

آتشؔ دھوپ گئی کب کی
گھر میں کیوں کر بیٹھا ہے