EN हिंदी
نیند کے بدلے تسلی ہی سہی آتی تو ہے | شیح شیری
nind ke badle tasalli hi sahi aati to hai

غزل

نیند کے بدلے تسلی ہی سہی آتی تو ہے

جگر بریلوی

;

نیند کے بدلے تسلی ہی سہی آتی تو ہے
دل سے باتیں کرتے کرتے رات کٹ جاتی تو ہے

کیا اسی کا نام ہے سوز محبت ہم نشیں
ایک بجلی سی مری رگ رگ میں لہراتی تو ہے

اس سے بڑھ کر اور کیا تاثیر غم کی چاہئے
دل کی آہوں سے جگر کی چوٹ چھل جاتی تو ہے

کیا یہی ہے اے محبت ہستئ دل کا مآل
اک لہو کی بوند مژگاں پر نظر آتی تو ہے

کچھ بظاہر واسطہ اس سے ہمیں ہو یا نہ ہو
دیکھ کر اس کی نگاہیں روح تھراتی تو ہے

سوز غم سے جب بہت جلتا ہے دل اپنا جگرؔ
روح کی منزل میں کچھ کچھ روشنی آتی تو ہے