EN हिंदी
نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے | شیح شیری
nigal gae sab ki sab samundar zamin bachi ab kahin nahin hai

غزل

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے

جاوید اختر

;

نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہے
بچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہے

بہت دنوں بعد پائی فرصت تو میں نے خود کو پلٹ کے دیکھا
مگر میں پہچانتا تھا جس کو وہ آدمی اب کہیں نہیں ہے

گزر گیا وقت دل پہ لکھ کر نہ جانے کیسی عجیب باتیں
ورق پلٹتا ہوں میں جو دل کے تو سادگی اب کہیں نہیں ہے

وہ آگ برسی ہے دوپہر میں کہ سارے منظر جھلس گئے ہیں
یہاں سویرے جو تازگی تھی وہ تازگی اب کہیں نہیں ہے

تم اپنے قصبوں میں جا کے دیکھو وہاں بھی اب شہر ہی بسے ہیں
کہ ڈھونڈھتے ہو جو زندگی تم وہ زندگی اب کہیں نہیں ہے