EN हिंदी
نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی | شیح شیری
nigah kya aur mizha kya ai sanam isko bhi usko bhi

غزل

نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی

مرزا آسمان جاہ انجم

;

نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی
سمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھی

پڑے تھے دل کے پیچھے اس کو تو غارت کیا تم نے
رہا اب دین و ایماں لو صنم اس کو بھی اس کو بھی

اگر لے مول اک بوسے پہ میرا دین و ایمان تو
میں دے دوں گا ترے سر کی قسم اس کو بھی اس کو بھی

حقیقت میں تفاوت کچھ نہیں شیخ و برہمن میں
سنا ہے ہم نے بھرتے تیرا دم اس کو بھی اس کو بھی

گرا دیتا ہے آنکھوں سے مری سنبل ہو یا ناگن
تمہاری کاکل پیچاں کا خم اس کو بھی اس کو بھی

کبھی تیوری چڑھانا اور کبھی منہ پھیر کر ہنسنا
ترا عاشق سمجھتا ہے ستم اس کو بھی اس کو بھی

ہماری آبرو کیا اور دل پر حوصلہ کیسا
ڈبو دینا اری او چشم نم اس کو بھی اس کو بھی

کیا اقرار بوسہ دینے کا دیں گالیاں تم نے
فقیر عشق ہوں سمجھا کرم اس کو بھی اس کو بھی

خط محبوب و پائے نامہ بر قسمت سے ہاتھ آئے
لگا آنکھوں سے انجمؔ دم بہ دم اس کو بھی اس کو بھی