EN हिंदी
نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں | شیح شیری
nigahen dar pe lagi hain udas baiThe hain

غزل

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں

صوفی تبسم

;

نگاہیں در پہ لگی ہیں اداس بیٹھے ہیں
کسی کے آنے کی ہم لے کے آس بیٹھے ہیں

نظر اٹھا کے کوئی ہم کو دیکھتا بھی نہیں
اگرچہ بزم میں سب روشناس بیٹھے ہیں

الٰہی کیا مری رخصت کا وقت آ پہنچا
یہ چارہ ساز مرے کیوں اداس بیٹھے ہیں

الٰہی کیوں تن مردہ میں جاں نہیں آتی
وہ بے نقاب ہیں تربت کے پاس بیٹھے ہیں