نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا
ہمیں اب اس سے کیا آئی سحر یا وقت شام آیا
زبان عشق پر اک چیخ بن کر تیرا نام آیا
خرد کی منزلیں طے ہو چکیں دل کا مقام آیا
اٹھانا ہے جو پتھر رکھ کے سینہ پر وہ گام آیا
محبت میں تری ترک محبت کا مقام آیا
اسے آنسو نہ کہہ اک یاد ایام گذشتہ ہے
مری عمر رواں کو عمر رفتہ کا سلام آیا
ذرا لو اور دل کی تیز کر سیلا سا یہ شعلہ
نہ روشن کر سکا گھر کو نہ محفل ہی کے کام آیا
مکمل تبصرہ کرتا ہوا ایام رفتہ پر
نگاہ بے سخن میں ایک اشک بے کلام آیا
توانا کو بہانہ چاہئے شاید تشدد کو
پھر اک مجبور پر شوریدگی کا اتہام آیا
نہ جانے کتنی شمعیں گل ہوئیں کتنے بجھے تارے
تب اک خورشید اتراتا ہوا بالائے بام آیا
برہمن آب گنگا شیخ کوثر لے اڑا اس سے
ترے ہونٹوں کو جب چھوتا ہوا ملاؔ کا جام آیا
غزل
نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا
آنند نرائن ملا

