EN हिंदी
نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا | شیح شیری
nazzara jo hota hai lab-e-baam tumhaara

غزل

نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا

احسن مارہروی

;

نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا
دنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارا

درباں ہے نہ ہے غیر بد انجام تمہارا
کام آئے گا آخر یہی ناکام تمہارا

دشنام سنو دے کے دل اے حسن پرستوں
یہ کام تمہارا ہے وہ انعام تمہارا

آغاز محبت ہے ہو خوش حضرت دل کیا
اچھا نظر آتا نہیں انجام تمہارا

احسنؔ کی طبیعت سے ابھی تم نہیں واقف
ہے دل سے دعا گو سحر و شام تمہارا