نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے
تجلیٔ رخ جاناں دکھائی جاتی ہے
جب ان کو حوصلۂ دل پہ اعتبار نہیں
تو پھر نظر سے نظر کیوں ملائی جاتی ہے
خم و سبو کی ضرورت کے ہم نہیں قائل
شراب مست نظر سے پلائی جاتی ہے
ستم نوازئ پیہم ہے عشق کی فطرت
فضول حسن پہ تہمت لگائی جاتی ہے
بھلا دیا ہے غم روزگار نے جس کو
وہ داستاں مجھے پھر یاد آئی جاتی ہے
شکیلؔ دورئ منزل سے ناامید نہ ہو
اب آئی جاتی ہے منزل اب آئی جاتی ہے
غزل
نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے
شکیل بدایونی