EN हिंदी
نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں | شیح شیری
nazar nazar mein liye tera pyar phirte hain

غزل

نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں

حبیب جالب

;

نظر نظر میں لیے تیرا پیار پھرتے ہیں
مثال موج نسیم بہار پھرتے ہیں

ترے دیار سے ذروں نے روشنی پائی
ترے دیار میں ہم سوگوار پھرتے ہیں

یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے دیوانے
لگائے دل سے غم روزگار پھرتے ہیں

لئے ہوئے ہیں دو عالم کا درد سینے میں
تری گلی میں جو دیوانہ وار پھرتے ہیں

بہار آ کے چلی بھی گئی مگر جالبؔ
ابھی نگاہ میں وہ لالہ زار پھرتے ہیں