EN हिंदी
نظر میں صلح بھی سر پر لہو بھی دیکھتا ہے | شیح شیری
nazar mein sulh bhi sar par lahu bhi dekhta hai

غزل

نظر میں صلح بھی سر پر لہو بھی دیکھتا ہے

ارشد عبد الحمید

;

نظر میں صلح بھی سر پر لہو بھی دیکھتا ہے
مجھے تو رشک سے میرا عدو بھی دیکھتا ہے

میں شورشوں میں بھی دل کو قریب رکھتا ہوں
یہی تو ہے جو پس ہاو ہو بھی دیکھتا ہے

چراغ انہیں کی وساطت سے جل رہا ہے مگر
کبھی ہواؤں کو یہ تند خو بھی دیکھتا ہے

مجھے یہ موتی سمندر یوں ہی نہیں دیتا
وہ میرے حوصلے بھی جستجو بھی دیکھتا ہے

یہ دل اسیر ترے نقش پا کا ہے لیکن
جو چوک جائے تو پھر چار سو بھی دیکھتا ہے

مرے جنون کو دونوں عزیز ہیں جاناں
یہ دشت و در ہی نہیں آب جو بھی دیکھتا ہے

ہزار برگ و ثمر جمع ہو گئے ارشدؔ
مگر یہ دل کہ مآل نمو بھی دیکھتا ہے