EN हिंदी
نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے | شیح شیری
nazar mein Dhal ke ubharte hain dil ke afsane

غزل

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے

صوفی تبسم

;

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے

وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے

یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ
فسردہ میکدے والے اداس مے خانے

مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر
بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے

یہ کس کی چشم فسوں ساز کا کرشمہ ہے
کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دل کے بت خانے

نگاہ ناز میں دل سوزیٔ نیاز کہاں
یہ آشنائے نظر ہیں دلوں کے بیگانے