EN हिंदी
نیا مے کدے میں نظام آ گیا | شیح شیری
naya mai-kade mein nizam aa gaya

غزل

نیا مے کدے میں نظام آ گیا

علی جواد زیدی

;

نیا مے کدے میں نظام آ گیا
اٹھیں بندشیں اذن عام آ گیا

نظر میں وہ کیف دوام آ گیا
کہ گویا کسی کا پیام آ گیا

محبت میں وہ بھی مقام آ گیا
کہ مژگاں پہ خوں لب پہ نام آ گیا

سر راہ کانٹے بچھاتا ہے شوق
جنوں کو بھی کچھ اہتمام آ گیا

نہ الزام ان پر نہ اغیار پر
یہ دل آپ ہی زیر دام آ گیا

بدل ہی گیا بزم عشرت کا رنگ
مرا نغمۂ درد کام آ گیا

کدھر سے یہ سنکی مہکتی ہوا
کدھر سے وہ نازک خرام آ گیا

تماشا نہیں تھا مرا اضطراب
کوئی کیوں یہ بالائے بام آ گیا

بیاں ہو رہا تھا فسانہ مرا
مگر بار بار ان کا نام آ گیا

کبھی سامنے کچھ خموشی رہی
کبھی دور سے کچھ پیام آ گیا

جو دار و رسن سے بھی رکتا نہیں
سروں میں وہ سودائے خام آ گیا

وہ زیدیؔ وہی رند آتش نوا
وہ زندہ دلوں کا امام آ گیا