نیا خیال کبھی یوں دماغ میں آیا
کہ شعلہ چلتا ہوا خود چراغ میں آیا
بدن پہ اس کے تھی شوخی بھری قبائے بہار
وہ ایک باغ کے ہمراہ باغ میں آیا
پریشاں تنگئ جا سے ہے گرچہ دود بہت
یہ کم ہے داغ کا سرمایہ داغ میں آیا
کسی نے ڈال دیا شک کسی گئے کل پر
میں مڑ کے حال سے اس کے سراغ میں آیا
میں سوچتا تھا اسے کیا بھلا بھی پاؤں گا
مگر یہ کام بڑے ہی فراغ میں آیا
وفور گرمئ اندیشہ نے خراب کیا
کہ بال تندئ مے سے ایاغ میں آیا
اکیلا گھومتا پھرتا رہا میں دریا پر
وہاں سے شام ڈھلے ایک باغ میں آیا
قریب آخر شب ختم ہو گئی محفل
اور اس کے ساتھ دھواں بھی چراغ میں آیا
وہ میرے ساتھ تھا جب تک تو ٹھیک تھا شاہیںؔ
فتور بعد میں اس کے دماغ میں آیا
غزل
نیا خیال کبھی یوں دماغ میں آیا
جاوید شاہین

