EN हिंदी
نقش خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز | شیح شیری
naqsh-e-KHayal dil se miTaya nahin hanuz

غزل

نقش خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز

جوشؔ ملیح آبادی

;

نقش خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز
بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز

وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز
میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز

محراب جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے
سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز

بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا
میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز

مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبر جوشؔ سے
بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز