EN हिंदी
ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن | شیح شیری
nanha sa diya hai ki tah-e-ab hai raushan

غزل

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن

شاہد کمال

;

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن
بجھتی ہوئی آنکھوں میں کوئی خواب ہے روشن

سنسان جزیرے میں چمکتا ہوا تارا
دل ہے کہ کوئی کشتیٔ شب تاب ہے روشن

دہشت کے فرشتے ہیں فصیلوں پہ ہوا کی
اور چاروں طرف شہر کے سیلاب ہے روشن

میں ڈوبتا جاتا ہوں تری موج بدن میں
یوں رقص میں کرنیں ہیں کہ گرداب ہے روشن

ہاں جسم کے اس قریۂ بے نور کے اندر
اب بھی وہ ترے لمس کا مہتاب ہے روشن

میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں جسے بام فلک پر
وہ چاند سر حلقۂ احباب ہے روشن

شاہدؔ کہ جو وہ خاک نشیں محرم جاں ہے
سجدوں سے ابھی اس کے یہ محراب ہے روشن