EN हिंदी
نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے | شیح شیری
nam-e-ashk aankhon se Dhalne laga hai

غزل

نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے

مرزا اظفری

;

نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے
کہ فوارہ خوں کا اچھلنے لگا ہے

ڈبا دل کا گھر آنکھ تک آن پہنچا
اب آنسو کا نالا ابلنے لگا ہے

یہ سیب آنب شفتالو نارنگی کمرکھہ
ترے باغ کا میوہ پلنے لگا ہے

تمہاری میاں دیکھ یہ پھل پھلاری
مرا طفل دل تو مچلنے لگا ہے

کھجوریں سموسے تلے کچھ دلا دو
اجی! جی مرا ان پہ چلنے لگا ہے

ابھی آئے کہتے ہو جاتا ہوں لو جی
یہ سنتے مرا جی دہلنے لگا ہے

مری جان جلد اظفریؔ پاس آ جا
کہ جی اس کا تجھ بن نکلنے لگا ہے