EN हिंदी
نیرنگ جہاں رنگ تماشا ہے تو کیا ہے | شیح شیری
nairang-e-jahan rang-e-tamasha hai to kya hai

غزل

نیرنگ جہاں رنگ تماشا ہے تو کیا ہے

صدیق مجیبی

;

نیرنگ جہاں رنگ تماشا ہے تو کیا ہے
ہر ایک قدم آگ کا دریا ہے تو کیا ہے

ہم دل کے مصاحب ہیں ہر اک بات پہ راضی
اک موڑ غلط راہ میں آیا ہے تو کیا ہے

سو رنگ کے دریاؤں کا پانی ہے نظر میں
اب بادیہ پیمائی صحرا ہے تو کیا ہے

اک دھند ہے منظر سے زیادہ پس منظر
اک وہم پر دل والا و شیدا ہے تو کیا ہے

جی لیں کہ نہ جی پائے یہ حسرت تو نہ ہوگی
قسمت میں فنا حرف نوشتہ ہے تو کیا ہے