نیرنگ جہاں رنگ تماشا ہے تو کیا ہے
ہر ایک قدم آگ کا دریا ہے تو کیا ہے
ہم دل کے مصاحب ہیں ہر اک بات پہ راضی
اک موڑ غلط راہ میں آیا ہے تو کیا ہے
سو رنگ کے دریاؤں کا پانی ہے نظر میں
اب بادیہ پیمائی صحرا ہے تو کیا ہے
اک دھند ہے منظر سے زیادہ پس منظر
اک وہم پر دل والا و شیدا ہے تو کیا ہے
جی لیں کہ نہ جی پائے یہ حسرت تو نہ ہوگی
قسمت میں فنا حرف نوشتہ ہے تو کیا ہے
غزل
نیرنگ جہاں رنگ تماشا ہے تو کیا ہے
صدیق مجیبی

