EN हिंदी
نئی نکور نرالی پر | شیح شیری
nai-nikor nirali par

غزل

نئی نکور نرالی پر

ناصر شہزاد

;

نئی نکور نرالی پر
دل آیا متوالی پر

چاند گھٹا کے گھونگھر میں
خوشبو ڈالی ڈالی پر

کنتھ ملے کجرا مہکا
رنگ رچے دیوالی پر

رادھا رانی پھول سمان
ہری گئے ہریالی پر

رمے کرن ریجھے جگنو
اکھیاں کجیلی کالی پر

دھیان اک بیتے ملن کے دوار
لب چائے کی پیالی پر

سرسوں سہاگن سونے سے
تیتریوں کے خالی پر

پریت میں موہ ملن کی ریت
ہے تو سہی اے آلی پر