EN हिंदी
نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوں | شیح شیری
nai nai suraten badan par ujalta hun

غزل

نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوں

دانیال طریر

;

نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوں
لہو سے کیسے عجیب منظر نکالتا ہوں

وہ دل میں اتریں تو ایک ہو جائیں روشنی دیں
دھنک کے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں ڈالتا ہوں

زمین تلووں سے آ چمٹتی ہے آگ بن کر
ہتھیلیوں پر جب آسماں کو سنبھالتا ہوں

ہوا میں تھوڑا سا رنگ اترے سو اس لیے میں
گلاب کی پتیاں فضا میں اچھالتا ہوں

کوئی نہیں تھا جو اس مسلسل صدا کو سنتا
یہ میں ہوں جو اس دیے کو سورج میں ڈھالتا ہوں

طریرؔ سانسوں کا رنگ نیلا ہوا تو جانا
خبر نہیں تھی یہ سانپ ہیں جن کو پالتا ہوں