نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا
وہی رسم چمن ہوگی مگر موسم تو بدلے گا
وہ قہر شاہ خاور ہو کہ زہر باد صرصر ہو
کسی صورت مزاج نازک شبنم تو بدلے گا
مسیحاؤں نے کچھ تازہ دوائیں لا کے رکھی ہیں
نئے زخم آئیں گے اب بھی مگر مرہم تو بدلے گا
کفن ریشم کے مقتولوں کو اب پہنائے جائیں گے
عزاداروں کا طرز گریہ و ماتم تو بدلے گا
نئی ساقی گری کا جشن فیاضی مبارک ہو
وہی ہوں گے ایاغ و جام لیکن سم تو بدلے گا
نئی ناوک زنی ہوگی مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ جس عالم میں ہم رہتے ہیں وہ عالم تو بدلے گا
غزل
نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا
مظہر امام

