EN हिंदी
نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا | شیح شیری
nai barish ki rim-jhim mein libas-e-gham to badlega

غزل

نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا

مظہر امام

;

نئی بارش کی رم جھم میں لباس غم تو بدلے گا
وہی رسم چمن ہوگی مگر موسم تو بدلے گا

وہ قہر شاہ خاور ہو کہ زہر باد صرصر ہو
کسی صورت مزاج نازک شبنم تو بدلے گا

مسیحاؤں نے کچھ تازہ دوائیں لا کے رکھی ہیں
نئے زخم آئیں گے اب بھی مگر مرہم تو بدلے گا

کفن ریشم کے مقتولوں کو اب پہنائے جائیں گے
عزاداروں کا طرز گریہ و ماتم تو بدلے گا

نئی ساقی گری کا جشن فیاضی مبارک ہو
وہی ہوں گے ایاغ و جام لیکن سم تو بدلے گا

نئی ناوک زنی ہوگی مگر اتنا بھی کیا کم ہے
کہ جس عالم میں ہم رہتے ہیں وہ عالم تو بدلے گا