نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا
تیرے بیمار کا اچھا نہیں اچھا ہونا
ناصحا وسعت کاشانہ جنوں خیز نہیں
ورنہ کیا فرض ہے آوارۂ صحرا ہونا
بس اب اے ضبط زیادہ مجھے محجوب نہ کر
ہے مری آنکھ کی تقدیر میں دریا ہونا
کس سے کھلتے ہیں تری زلف گرہ گیر کے بل
کوئی آسان ہے یہ عقدۂ دل وا ہونا
نگۂ ناز کو آساں دم خنجر بننا
لب جاں بخش کو دشوار مسیحا ہونا
ہائے باتوں میں تری لغزش مستانۂ ناز
ہائے آنکھوں میں تری نشۂ صہبا ہونا
ہمہ تن داغ غم عشق بتاں ہوں فانیؔ
دل سے بھاتا ہے مجھے نقش سویدا ہونا
غزل
نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہونا
فانی بدایونی

