EN हिंदी
نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا | شیح شیری
nahin aasan tark-e-ishq karna dil se gham jaana

غزل

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا

اختر انصاری اکبرآبادی

;

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا
بہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا

خبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہے
بہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا

لحاظ وضع داری میں کبھی ممکن نہ ہو شاید
تمہارا دو قدم آنا ہمارا دو قدم جانا

ہمیں انداز رندانہ کبھی گرنے نہیں دیتے
جو ساغر سامنے آیا اسی کو جام جم جانا

مرا ہر شعر اخترؔ اک پیام زندگی نکلا
مجھے دنیا نے آخر مالک لوح قلم جانا