EN हिंदी
نفس نفس ہے بھنور چڑھتی شب کا منظر ہے | شیح شیری
nafas nafas hai bhanwar chaDhti shab ka manzar hai

غزل

نفس نفس ہے بھنور چڑھتی شب کا منظر ہے

مصور سبزواری

;

نفس نفس ہے بھنور چڑھتی شب کا منظر ہے
حصار جسم میں اک چیختا سمندر ہے

ہوائے تازہ کے مانند مت لپٹ مجھ سے
گئی رتوں کا بہت زہر میرے اندر ہے

نکل کے جاؤں گنہ گار تیرگی سے کدھر
ہر ایک ہاتھ میں اب روشنی کا پتھر ہے

اک آگ اڑتی ہوئی سی وہی تعاقب میں
بدن کی راکھ ابھی شاید بدن کے اندر ہے

تو کیوں اڑھاتا ہے مجھ کو یہ روشنی کی ردا
مجھے خبر ہے اندھیرا مرا مقدر ہے

صلیب شب سے مصورؔ سحر کے مقتل تک
کہاں ملیں کہ ہر اک فاصلہ برابر ہے