EN हिंदी
ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے | شیح شیری
nadi ke par ujala dikhai deta hai

غزل

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

امیر قزلباش

;

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے
مجھے یہ خواب ہمیشہ دکھائی دیتا ہے

برس رہی ہیں عقیدت کی بدلیاں لیکن
شعور آج پیاسا دکھائی دیتا ہے

چراغ منزل فردا جلائے گا اک روز
وہ راہگیر جو تنہا دکھائی دیتا ہے

تری نگاہ نے ہلکا سا نقش چھوڑا تھا
مگر یہ زخم تو گہرا دکھائی دیتا ہے

کسی خیال کی مشعل کسی صدا کا چراغ
ہر ایک سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے

امیرؔ پوچھ رہا ہوں غم زمانہ سے
ہمارے گھر میں تجھے کیا دکھائی دیتا ہے