EN हिंदी
ندی کا آب دیا ہے تو کچھ بہاؤ بھی دے | شیح شیری
nadi ka aab diya hai to kuchh bahaw bhi de

غزل

ندی کا آب دیا ہے تو کچھ بہاؤ بھی دے

شکیل اعظمی

;

ندی کا آب دیا ہے تو کچھ بہاؤ بھی دے
مری غزل کو نیا پن بھی دے رچاؤ بھی دے

چلا کے سرد ہوا مجھ کو منجمد بھی کر
پگھل کے پھیلنا چاہوں تو اک الاؤ بھی دے

کہ جس کے درد کا احساس تیرے جیسا ہو
کبھی کبھی مری فطرت کو ایسا گھاؤ بھی دے

عذاب سیل مسلسل جو دے رہا ہے مجھے
تو سطح آب پہ چلنے کو ایک ناؤ بھی دے

مسافرت کے کئی مرحلے تمام ہوئے
کہ میری خانہ بدوشی کو اب پڑاؤ بھی دے