EN हिंदी
نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیں | شیح شیری
nazninan-e-jahan shobada-gar pakke hain

غزل

نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیں

عزیز حیدرآبادی

;

نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیں
دیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیں

ہم لٹا دیں گے محبت میں متاع ہستی
ہم دکھا دیں گے ارادے کے اگر پکے ہیں

پختہ کاری کی خبر دیتی ہے خامی ان کی
کان کے کچے ہیں مطلب کے مگر پکے ہیں

یہ تو فرمائیے قسموں کی ضرورت کیا تھی
آپ اقرار کے وعدے کے اگر پکے ہیں

خوف طوفان حوادث کا نہیں مجھ کو عزیزؔ
جن کی بنیاد ہے مضبوط وہ گھر پکے ہیں