نام وفا پہ دے کے جان دل نے وفا خرید لی
تھی بھی خریدنے کی چیز خوب کیا خرید لی
حسب مذاق و حسب شوق ایک اک ادا خرید لی
اس نے جفائیں مول لیں میں نے وفا خرید لی
ضبط کا دل میں کر کے عہد ان سے بڑھایا میل جول
درد سے پہلے درد کی ہم نے دوا خرید لی
عہد شباب تھا بہار اور سجا بہار کو
جتنی جہاں میں مل سکی اس نے حیا خرید لی
ظرف سے بڑھ کے نعمت عشق بھی موت بن گئی
ہم نے بھی تو غضب کیا حد سے سوا خرید لی
عشق کی کار گاہ سے حسن کی بارگاہ سے
جس کو نہ اور کچھ ملا اس نے قضا خرید لی
دیتے دلاتے بے طلب توڑ کے ہاتھ رکھ دیے
تیرے کرم نے طاقت دست دعا خرید لی
آج نصیب دشمناں چہرہ ہے کیوں اداس اداس
میری طرح بلائے عشق تم نے بھی کیا خرید لی
منظرؔ انہیں دکھا کے زہر کہہ رہا ہے خوشی خوشی
لیجے دوا لے آئے مول لیجے شفا خرید لی
غزل
نام وفا پہ دے کے جان دل نے وفا خرید لی
منظر لکھنوی

