EN हिंदी
نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے | شیح شیری
nale majburon ke Khaali nahin jaane wale

غزل

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے

آرزو لکھنوی

;

نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے
ہیں یہ سوتا ہوا انصاف جگانے والے

حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور
خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے

چپ ہے پروانہ تو کیا شمع کو خود ہے اقرار
آپ ہی جلتے ہیں اوروں کو جلانے والے

آرزوؔ ذکر زبانوں پہ ہے عبرت کے لئے
مٹنے والے ہیں نہ باقی ہیں مٹانے والے