نالۂ جاں گداز نے مارا
سوز الفت کے ساز نے مارا
یہ کہا پڑھ کے میرا نامۂ شوق
اس سراپا نیاز نے مارا
منہ سے اف بھی تو کر نہیں سکتے
خوف افشائے راز نے مارا
زندگی چین سے گزرتی تھی
چشم نظارہ باز نے مارا
داد بھی شوق دید کی نہ ملی
جلوۂ بے نیاز نے مارا
موت کی زد سے بچ گیا جو کوئی
اس کو عمر دراز نے مارا
انگلیاں ہر طرف سے اٹھتی ہیں
طرۂ امتیاز نے مارا
کوئی دم ساز کوئی ہے جاں باز
آپ کے ساز باز نے مارا
جس کے قبضے میں ہے مسیحائی
ہم کو اس تیغ ناز نے مارا
کیا بھروسہ کسی پہ ہو اے جوشؔ
دل کو اک دل نواز نے مارا
غزل
نالۂ جاں گداز نے مارا
جوشؔ ملسیانی

