EN हिंदी
نالۂ غم شعلہ اثر چاہئے | شیح شیری
nala-e-gham shoala-asar chahiye

غزل

نالۂ غم شعلہ اثر چاہئے

حمایت علی شاعرؔ

;

نالۂ غم شعلہ اثر چاہئے
چاک دل اب تا بہ جگر چاہئے

کتنے مہ‌ و نجم ہوئے نذر شب
اے غم دل اب تو سحر چاہئے

منزلیں ہیں زیر کف پا مگر
اک ذرا عزم سفر چاہئے

آئنہ خانے میں ہے درکار کیا
چاہئے اک سنگ اگر چاہئے

دور ہے دل منزل غم سے ہنوز
اک غلط انداز نظر چاہئے

تشنگئ لب کا تقاضا ہے اب
بادہ ہو یا زہر مگر چاہئے