EN हिंदी
نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا | شیح شیری
nala-bar-lab haram se nikalna paDa

غزل

نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا

منظور حسین شور

;

نالہ بر لب حرم سے نکلنا پڑا
اک دعا مانگ کر ہاتھ ملنا پڑا

رہ گزر میں نہ تھا آشنا کوئی شخص
پھر بھی ہر شخص کے ساتھ چلنا پڑا

کیسی شبنم کہاں کے نسیم و سحاب
اپنے شعلے میں ہر گل کو جلنا پڑا

عادتاً خضر کے ساتھ دنیا چلی
فطرتاً ہم کو آگے نکلنا پڑا

چلتے چلتے جہاں شورؔ ہم رک گئے
اپنا رخ حادثوں کو بدلنا پڑا