نہ سود ہے نہ زیاں حاصل وفا کیا ہے
وفا پرست نہ میں ہوں نہ وہ برا کیا ہے
کوئی کسی کو بتاتا نہیں ہوا کیا ہے
چلو انہیں سے یہ پوچھیں کہ ماجرا کیا ہے
وہی ہے روح وہی جسم کچھ نہیں بدلا
خیال میں نہیں آتا کہ پھر نیا کیا ہے
میں اپنے آپ سے مایوس تو نہیں لیکن
جو عکس ہی نہ دکھائے وہ آئینہ کیا ہے
مرا وجود سراپا جواب ہے کس کا
نہیں سوال تو پھر یہ سوال سا کیا ہے
کسے قبول کروں کس کو ان سنا کر دوں
یہ آتی جاتی صداؤں کا سلسلہ کیا ہے
نہ خود ملے گا نہ مجھ کو کبھی بلائے گا
اس آنے جانے میں ویسے بھی اب رہا کیا ہے
وہ میرے پاس بھی ہے مہرباں بھی ہے مجھ پر
فقط خیال ہے میرا خیال کا کیا ہے
غزل
نہ سود ہے نہ زیاں حاصل وفا کیا ہے
مدحت الاختر

