نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے
زمیں نہ آسمان ہے زماں نہ کائنات ہے
یہ جسم و جاں کا قافلہ ہے راستہ پہ کون سے
نہ منزلوں کی آس ہے نہ رہروؤں کا ساتھ ہے
امید و آرزو کے رنگ کیوں پھیکے لگ رہے ہیں اب
کمی ہے آب و گل میں کچھ لہو میں کوئی بات ہے
ہے ان کے واسطے تمام فتح و کامرانیاں
مرے لیے ہمیشہ سے جو ہے تو صرف مات ہے
میں لحظہ لحظہ کٹ کے گر رہا ہوں اندھی کھائی میں
یہ زندگی کا راستہ نہیں ہے پل صراط ہے
ہے وصل اپنے آپ سے فراق اپنے آپ سے
نہیں ہے کوئی بھی یہاں بس ایک میری ذات ہے
مامونؔ ازل سے تا ابد نہیں ہے کوئی روشنی
خلا میں دور دور تک بس اک عظیم رات ہے
غزل
نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے
خلیل مامون

