EN हिंदी
نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے | شیح شیری
na nind hai na KHwab hai na yaad hai na raat hai

غزل

نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے

خلیل مامون

;

نہ نیند ہے نہ خواب ہے نہ یاد ہے نہ رات ہے
زمیں نہ آسمان ہے زماں نہ کائنات ہے

یہ جسم و جاں کا قافلہ ہے راستہ پہ کون سے
نہ منزلوں کی آس ہے نہ رہروؤں کا ساتھ ہے

امید و آرزو کے رنگ کیوں پھیکے لگ رہے ہیں اب
کمی ہے آب و گل میں کچھ لہو میں کوئی بات ہے

ہے ان کے واسطے تمام فتح و کامرانیاں
مرے لیے ہمیشہ سے جو ہے تو صرف مات ہے

میں لحظہ لحظہ کٹ کے گر رہا ہوں اندھی کھائی میں
یہ زندگی کا راستہ نہیں ہے پل صراط ہے

ہے وصل اپنے آپ سے فراق اپنے آپ سے
نہیں ہے کوئی بھی یہاں بس ایک میری ذات ہے

مامونؔ ازل سے تا ابد نہیں ہے کوئی روشنی
خلا میں دور دور تک بس اک عظیم رات ہے