نہ میرے خواب کو پیکر نہ خد و خال دیا
بہت دیا تو مجھے موقع وصال دیا
ملا نہ روح نہ دل کا کوئی حساب مگر
یہ کار زیست کسی طور سے سنبھال دیا
تمام عمر کی بے چینیوں سے کچھ نہ ہوا
مرے جنوں کو خرد کہہ کے اس نے ٹال دیا
کسی نگاہ نے امید کو دیا چہرہ
کسی شبیہ نے سب سے حسیں خیال دیا
مرے عیوب کی تصویر اس طرح کھینچی
مرے ہنر کو پس پشت اس نے ڈال دیا
کئی خیال جو آوارہ خو تھے سرکش تھے
انہیں بھی شعر کے سانچے میں ہم نے ڈھال دیا
اسی نے سر پہ بٹھایا تھا جس نے آج نعیمؔ
سمجھ کے پاؤں کا کانٹا مجھے نکال دیا
غزل
نہ میرے خواب کو پیکر نہ خد و خال دیا
حسن نعیم

